نئی مسجد کی تاریخ
نئی مسجد عثمانی تاریخ کے اہم ترین معماری عجائبات میں سے ایک ہے، اور اس کے پیچھے ایک اہم تاریخ موجود ہے۔
نئی مسجد اور اس کے احاطے کی تعمیر کا آغاز صفیہ سلطان نے 1957 میں کیا۔ صفیہ سلطان نے اپنے بیٹے، سلطان محمد سوم، کے تخت نشین ہونے کے بعد ولیدہ سلطان کا لقب حاصل کر کے اپنی قوت میں اضافہ کیا۔ صفیہ سلطان نے یہ مسجد اس وقت اپنی طاقت ظاہر کرنے کے لیے بنائی جب ان کا بیٹا تخت پر آیا۔ اور یہی اس مسجد کی تعمیر کی بنیادی وجہ ہے۔ اسی سبب یہ مسجد ولیدہ سلطان مسجد کے نام سے بھی جانی جاتی ہے۔
مسجد کے پہلے معمار، داوود آغا، نے اس مقام کا انتخاب کیا اور اس کے نقشے تیار کیے۔ مسجد کی تعمیر کی بنیاد 1598 میں رکھی گئی، اور ریاست کے معززین کی موجودگی میں ایک تقریب منعقد ہوئی۔ توپخانے سے توپوں کی سلامی کے ساتھ استنبول کو یہ خوشخبری دی گئی کہ مسجد کی تعمیر شروع ہو گئی ہے۔ تاہم، معمار داوود آغا اور پھر سلطان محمد سوم کی وفات کے ساتھ تعمیر رک گئی۔
بعد میں، مراد چہارم نے تعمیر جاری رکھنے کی کوشش کی۔ تاہم، قیمتیں زیادہ ہونے کی وجہ سے اسے ترک کر دیا گیا۔ 1660 میں استنبول کی عظیم آگ میں مسجد کو نقصان پہنچا۔ آگ کے بعد تعمیر دوبارہ شروع کی گئی اور 1665 میں تورھان خدیجہ سلطان کی کوششوں سے مکمل ہوئی۔
بس اس شاندار نئی مسجد میں داخل ہوں۔ اپنے لیے اس حیرت انگیز مقام کو دریافت کریں، خاص طور پر تیار کردہ آڈیو گائیڈ سن کر، جو صرف آپ کے پاس کے لیے تیار کی گئی ہے!
اس شاندار تجربے اور مزید کے لیے، ابھی اپنا پاس خریدیں! Istanbul PRIME Pass® آپ کے استنبول کے سفر کو ایک ناقابلِ فراموش تجربہ بنانے کے لیے حاضر ہے!